موجودہ سرگرمیاں
براتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر نریندر سنگھ مودی ۲۰۱۴ کے إلیکشن میں إنڈیا کے پرائم منسٹر منتخب ہوےـ إس سے پہلے ۲۰۰۱ـ۲۰۱۴ تک وہ گجرات کے وزیراعلی رہے ـ متوسط طبقے سے إلیکشن جیتنے والے نریندر سنگھ مودی إنڈیا کے پندرویں وزیر اعظم ہیںـ۲۰۱۴ میں نریندرسنگھ مودی کی بدولت إنڈیا کی جمہوریت نے ایک إنقلاب انگیز رخ لیا ہےـ جس میں یہ توقع کی جارہی ہے کہ اکیسویں صدی تک إنڈیا میں تمام عییسائیوں اور مسلمانوں کو ہندو مذہب میں تبدیل کردیا جائے گا اور إنڈیا صرف ہندووں سے پہچانا جائے گاـجس کے سبب بہت سی سرگرمیاں رونما ہورہی ہیںـمسلمانوں کی مسجدوں کو ڈھا کر مندروں کی تعمیر کاکام کروایا جارہا ہے اور انھیں ہندو بننے پر جبراََ زور دیا جارہا ہے۔اگر مودی صاحب مسلمانوں کی تاریخ کو مدنظر رکھیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہےکہ مسلمانوں نے اتنے سال حکومت اپنے اچھے حسن سلوک کی بدولت کی،جس کے سبب ہمارے مذہب’دین اِسلام‘ کو فروغ ملا۔کسی بھی مذہب کو جبراََ قبول نہیں کیا جاسکتا کیو نکہ دل سے ایمان لانے کا نام ہی مذہب ہے۔مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنانے کی بی کوششوں میں ’دھرم جاگن‘ جلتی میں تیل کا کام انجام دے رہے ہیں جو ’آرـ ایس ـ ایس کا حصہ ہیں اور ’آر ـ ایس ـ ای ‘ بی جے پی کے سرپرت ہیں ایک اخبار کے مطابق بھارت ممیں ہندووں کی دائیں بازو کی تننظیم آر ایس ایس نے ۳۵۰ مسلمانوں کو ہندو بنایا ہے۔ اس تنظیم پر الزام ہے کہ یہ لوگوں کو مالی فاائدہ کا لالچ دے کر ہندو ازم کی جاانب مائل کرتے ہیں ۔ مسلمانوں کو ایسی سرگرمیوں سے آگاہ رہنا چاہئے کیو نکہ اس طرح کی سرگرمیوں سے مسلمانوں کے اتحادکونقصان پہنچ رہا ہے ـ
No comments:
Post a Comment