Neut`s Trends

Dream Big and Dare to Fail. -NORMAN VAUGHAN-

Tuesday, 27 January 2015

زندگی  ایک حسین پر عجیب حقیقت

زندگی ایک بہترین تحفہ خداوند تعا لی کا.مگر شاید یہ حسین تحفہ بھی صرف ان قسمت والوں  کے  لیے  ہے جو اسکے  ناز ا ٹھانے کی استطاعت رکھتے ہیں ورنہ یہ ان سے روٹھ جاتی ہے .ہاں  سچ ہی تو ہے اگر حقیقت میں دیکھنا ہے کے  رعنائیوں سے پر نور زندگی کیسی ہوتی ہے تو کسی بھی  ترّقی یافتہ  ملک ا ور اس کے  باشندے اس کی  جیتی جاگتی مثالیں ہیں. جس جگہ  یہ بات زیر  بحث ہو کے  سرد یوں میں کون سی کمپنی جدید و  خوش رنگ پہناو ے نکال  کر سب  پر  سبقت لے  جائے گی ،جہاں یہ بات موضوع چرچا ہو کے  آیندہ سال کا  استقبال کس  اچھو تھے  انداز میں کیا جائے کے انوکھے پن کا اعزاز حاصل ہو ،جہاں زندگی ا سکائی ڈیک سے پوری دنیا  نگاہوں میں  سمیٹنے  کا نام ہو ،جہاں  زندگی بارش کے  پہلے قطرے  کے  ساتھ جھومنے لگے ،جہاں کھانا زندگی کی ضرورت نہیں  بلکہ ایک فیشن ہو ،جہاں ماں بچے کو چاکلیٹ یوں نہ دے کہ  اس کا بچہ پہلے ہی ضرورت سے زیادہ کھا چکا ہے اگر مزید کھاے گا تو  نقصان دہ  ہو سکتا ہے.جی بلکل  یہاں زندگی  ایک حسین تحفہ ہے،ایک ایسی حقیقت  جس میں جینے کی اور کم سے کم  ایک بار اس میں  سانس لینے کی خواہش ہر انسان میں کہیں نہ کہیں پل  رہی ہے اور کیوں نہ ہوخدا کی اس  انمول نعمت کو  بھرپور  جینے کا حق بلا تفریق ہر کسی کا ہے. مگر اس  زندگی کی کچھ کڑوی  سچائیاں بھی ہیں ایسی حقیقتیں جن سے نہ تو منہ موڑا جاسکتا ہے اور نہ ہی ہماری اتنی دسترس کے ان کو بدل سکیں یہاں زندگی ایک حسین نہیں ،ایک عجیب و دردناک حقیقت ہے.پاکستان.....قدرتی وسائل سے مالامال! خداوند کا  عطا کردہ  بیش قیمت تحفہ .مگر یہاں زندگی ایک حسین تحفہ نہیں ایک عجیب حقیقت ہے ، اس کو حاصل کرنے کے  ٦٧ سال گزر جانے کی باوجو د ہم آج  تک ترقی  پذیر ممالک کی صف میں کھڑ ے ہیں.یہاں  بارش ہوتے ہی زندگی جھومنے نہیں لگتی  بلکے لوگ اس فکر میں مبتلا ہوجاتے ہیں کے کہیں یہ ابر رحمت ان کے  نہ اہل حکمرانوں کی بدولت ان کے لتے زحمت نہ بن جائے ،یہاں ماں  بچے کو چاکلیٹ یوں نہیں دیتی کے اس کا  اپنے معصوم کا پیٹ پالنا اور اچھی تربیت ہی نہایت مشکل  ہے ایسے میں اس کی  یہ  معصوم خواہش ایک عیاشی کے مترادف ہے .یہاں زندگی سکائی ڈیک سے دنیا کو  نگاہوں میں سمیٹنے کا نام نہیں،کیوں کے  جہاں سروں سے بجلی کے تار ٹکرا یں وہاں سکائی ڈیک کیسے ممکن ہے ....جہاں نے سال کی ابتدا مہنگائی میں اضافے سے ہو وہاں لوگ صرف تن ڈھانپنے کی خواہش رکھتے ہیں  ان کو نے آ نے والے جدید ملبوسات کی فکر نیہں ہوتی. 
ایسے میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کے زندگی کی رعنائیاں بھی دولت کی محتاج ہیں .بس اختتام اس دعا کے ساتھ خداوند تا لی میرے ارض پاک کی فضاؤں میں زندگی کے ڈھیروں رنگ بھر دے .جہاں زندگی سانس لینے کا نہیں جینے کا نام ہو .....کچھ ایسا ہوجاے کے میرے بزرگوں کی یہ عظیم قربانی سرخ رو ہوجانے .
آمین 
 
  

  

No comments:

Post a Comment