آن لائن صحا فت کا ابھرتا منظر

٢٠٠٨ میں پہلی مرتبہ امریکہ نے انٹرنیٹ کے ذریعه قومی اور بین الاقومی خبریں لوگوں تک پہنچائی یہ پہلی کوشش دنیا بھرمیں ایک نئی سوچ کےساتھ صحافت کو سامنے لائی لمحہ بھر میں دنیا کی خبریں انٹرنیٹ کے ذریعنے ہم تک پہنچی صحافت کا یہ نیا چہرا لوگوں کو منٹوں میں ہرخبر سے باخبر کر دیتا ہے اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ اب ہمیں ٹیلی ویژن پر خبروں کا گھنٹوں انتظار نہیں کرنا پڑھتا واقعیت پیش آتے ہی خبر انٹرنیٹ پر موجود ہوتی ہیں- ہر ٹی وی چینل کا اپنا پیج ہے وہ خبر کے معلوم ہوتے ہی اس کو اپنے پیج پر ڈال دیتی ہے لیکن اس خبر کی اس وقت تک کوئی تصدیق نہیں ہوتی لمحہ بھر میں وہ ہزاروں کو اس خبر سے با خبر کر دیتی ہے یہ صحافت کے شعبے میں بہت بڑی ذمداری ہے - وقت کے ساتھ ساتھ آن لائن صحافت میں اضافہ ہی نظر آیا ہےصحافت کا یہ نیا روپ سنہرا دور مانا جاتا ہے کیونکہ کسی بھی نیوز چینل کیلئے یہ بہت بڑی زمداری ہے کے ایک خبرسے ہزاروں لوگوں کو منٹوں میں با خبر کرنا صحیح معلومات کروڑوں تک پہنچانا - آن لائن صحافت مستقبل میں ایک شاخ کی ما ند دنیا بھر میں پھیلتا نظر آرہا ہے- صحافت کے شعبے یہ نئی تبدیلی آن لائن صحافت کیلئے مستقبل میں ابھرتا سورج ہے -
No comments:
Post a Comment