ناقا بل فراموش واقعہ
رات کے شاید تین بجے تھے جب میں اپنے دوست کی شادی سے واپس لوٹ رہاتھاـرات کی نزاکت کا اندازہ نہ ہو نے کے باعث میں سڑک پر ایک مجنوں کی طرح چلا جا رہا تھاکہ اچانک مجھے کسی شخص کےگڑگڑانے کی آواز آئ جیسے کہ کوئ کسی سے رحم طلب کررہاہوـ رات کی سیاحی میں کتوں کے بھونکنے کی آواز کے ساتھ اُس شخص کی آواز میں جو تھرتھراہٹ موجود تھی وہ شاید کسی بجلی کے کڑکنےکی آواز سےکم نہ تھی ـ میں ڈرتےسہمتےہؤےاس آواز کی طرف لپکااور اس گلی میں جاپہنچاجہاں سے یہ آوازیں موصول ہورہی تھی ۔
اُس گلی میں پہنچتے ہی میرے اُوپر سکتہ طاری ہوگیا میں اپنےجسم کےاعضاء کوحرکت کرانےکی کوشش کر رہاتھاپروہ میرےدماغ کا ساتھ دینے کے لئے تیارنہ تھاـ کیونکہ میرے سامنے منظرہی إتنا خوفناک تھامیرے سامنے ایک عجییب و غریب بلا ایک آدمی کو کھا رہی تھی،اُس آدمی کوکھانے کےبعدوہ بلامیری طرف بڑھی لیکن میں نےاُس سےگڑ گڑاتے ہوے اپنی جان بخشنےکی درخواست کی ـ إسکےبدلےمیں اُس نےمجھ سےإیک وعدہ لیاکہ تم یہ بات کسی کونہیں بتائوں گےـمیں نے آناََ فاناََ اپناسرہاں میں ہلا دیا،وہ بلاوہاں سے غائب ہوگئ ـ میں اب تک یقین نہیں کررہا تھا کہ کیایہ سب کچھ حقیقت ہے ـمیرےگھر کےراستے میں ایک قبرستان پڑتا تھامیں وہاں سےگزررہا تھا کہ میں نےدیکھاکہ ایک سفیدلباس پوش عورت کسی کی قبر کے سرہانے بیٹھی رو رہی ہے ـ
اُُُُُُسکی پُشت میری جانب تھی لہذا میرے لئے إسکو دیکھنا مشکل تھا میں قریب گیا اور اس کو مخاطب کیا کہ إتنی رات میں آپ کیا کر رہی ہیں ـ وہ عورت دکھنے میں نہایت خوبصورت تھی‘ اُس نے بتایا کہ یہ میرے خاوند کی قبر ہے وہ مجھے إس دنیا میں چھوڑ کر چلیں گئے ہیں، اب میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے ـ مجھے اُسعورت پر ترس آیا اور میں اُسے اپنے گھر لے آیا،میں نے اپنی ماں سے اِس سے شادی کا اظہار کیا اور کچھ دن بعد میری إس سے شادی ہوگئی ـ شادی کے بعد میں اپنی بیوی کے ہمراہ راولپنڈی آگیا، دیکھتے ہی دیکھتے میرے تین بچے ہوگئے جن میں سے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا ـ
کئی سال گزرنے کے بعد ایک شام جب میں کم سے لوٹاتو ہمیشہ کی طرح ہم باغ میں چائے پی رہے تھے ، بچےگھاس میں کھیل رہے تھے ،وہ نہایت خو بصورت شام تھی اس دن میرا رویّہ بہت مسرّت بھرا تھاکہ میں نے باتوں باتوں میں اپنے بچوں کو اُس بلا کی کہانی سنانا شروع کردی ـ لیکن جیسے ہی میں نے یہ کہانی سنانا شروع کی تو اچانک ہی میرے بیوی اور بچوں کی شکلیں اُس بلا جیسی شکل میں تبدیل ہو نے لگی،میری بیوی نے روتے ہوے مُجھ سے کہا کہ آپ نےیہ سب کچھ کیوں بتایا، یہ سب دیکھ کر میں إتنا گبھرایا کہ فوراََ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنی ماں اور رشتداروں کے پاس بھاگ آیاـ إیک ہفتے تک میں تیز بخار میں تپتا رہا، میری ماں نے کسی صوفی بزرگ سے میرا علاج کروایا تو میری صحت بحال ہوئی اب اِس واقعہ کو کئی سال گزر چکے ہیں لیکن آج تک یہ میری زندگی کا نا قا بل فراموش واقعہ ہے ـ
کئی سال گزرنے کے بعد ایک شام جب میں کم سے لوٹاتو ہمیشہ کی طرح ہم باغ میں چائے پی رہے تھے ، بچےگھاس میں کھیل رہے تھے ،وہ نہایت خو بصورت شام تھی اس دن میرا رویّہ بہت مسرّت بھرا تھاکہ میں نے باتوں باتوں میں اپنے بچوں کو اُس بلا کی کہانی سنانا شروع کردی ـ لیکن جیسے ہی میں نے یہ کہانی سنانا شروع کی تو اچانک ہی میرے بیوی اور بچوں کی شکلیں اُس بلا جیسی شکل میں تبدیل ہو نے لگی،میری بیوی نے روتے ہوے مُجھ سے کہا کہ آپ نےیہ سب کچھ کیوں بتایا، یہ سب دیکھ کر میں إتنا گبھرایا کہ فوراََ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنی ماں اور رشتداروں کے پاس بھاگ آیاـ إیک ہفتے تک میں تیز بخار میں تپتا رہا، میری ماں نے کسی صوفی بزرگ سے میرا علاج کروایا تو میری صحت بحال ہوئی اب اِس واقعہ کو کئی سال گزر چکے ہیں لیکن آج تک یہ میری زندگی کا نا قا بل فراموش واقعہ ہے ـ
No comments:
Post a Comment