کہاں گٰئیں وہ معاشرتی قدریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان اور اس کے باسیوں کی تہزیب جنوبی ایشیا اور پوری دنیا میں ھمیشہ ستائشی نظروں سے دیکھی
گئ ہے۔دوردراز سے میلوں کی سافت طے کر کے لوگ یہاں کی تہزیب جاننے یہاں کے لوگوں
کے درمیاں رہ کر ان کی مشاشرتی اخلاقیات،ان کا تہزیب و تمدن جاننے کی جستجو میلوں
کی مسافت طے کر کے یہاں آتے تھے۔ مگر آج ۔۔۔۔۔ کیا ہوا ہے میرے لوگوں کو ۔۔۔۔ کیا
ہوا ہے ان کی معاشرتی اخلاقیات کو۔۔۔۔
کیا ہوا ہے اس ملک کو جہاں مردانگی کے نام پہ صرف درندگی باقی رہ گئ ہے۔ جہاں
شوہر کو مجازی خدا کہا جاتا تھا، آج وہی مجازی خدا اپنی شریکِ حیات کو جیتے جی
ماردیتے ہیں، کبھی تیزاب سے نہلا دیتے ہیں تو کبھی مٹی کا تیل ڈال کر آگ لگا دیتے
ہیں۔
کیا یہی ہے مردانگی! جہاں راہ چلتی خواتین ان درندوں کی حوس کا نشانہ بنتی
ہیں۔جہاں کوئ خاتون ضرورت کہ تحت بھی ھر سے سکون سے نہیں نکل سکتی کیونکہ نہ جا نے
کتنی بے شرم و بے حیاء نگاہیں ان کا تعاقب کرتی رہیں گی کیونکہ نہ جانے کب کہاں سے
کوئ شیطان کا پجاری آکر اس سی مَس ہوگا اور اس کی پاکیزگی کو گندہ کرنے کی کوشش
کرے گا۔۔۔۔۔
کیا ہوا ہے میرے ملک کی ان با حیاء اور اعلیٰ اخلاق خواتین کو کہ جن میں
محترمہ فاطمہ جناح اور محترمہ بینظیر بھٹو جیسی خواتین کا شمار ہوتا ہو آج اسی ملک
کی خواتین کا ایک حصہ مخصوص انداز میں جگہ جگہ کھڑا ہوجاتا ہے۔خریدار آتے ہیں اور
انہیں لے جاتے ہیں ایسے میں شرفاء کا کیا قصور جب کئ خریدار ان کو بھی انہی خواتین
کا حصہ سمجھ لیں تو۔۔۔۔۔۔۔
کیا میرے ملک میں عورتوں کا عزت سے جینا اتنا مشکل ہے کہ انہوں نے جینے کیلۓ
عزت کو فروخت کرنا مناسب زیادہ سمجھا ۔۔۔۔۔۔۔
اولڈ ایج ہوم ۔۔۔۔! کبھی جا کر تو دیکھۓ دل دہل جاۓ رونگٹے کھٹے ہوجائٰیں گے
اگر ان بزرگوںنکی جگہ خود کو
رکھ کر سوچیں تو۔۔۔۔
جنہوں نے ساری زندگی جن بچوں کو اپنے خون سے سینچا آج وہی
بچے ان کو ان ہی کے گھر سے نکال دیتے ہیں ۔۔۔ تو کچھ مہربانی کر کے اولڈ ایج ہوم
بھیج دیتے ہیں۔ جہاں بزرگ گھروں کی رونق، بچوں کے دوست اور چار دیواری کو گھر
بناتے تھے آج وہاں یہ اولد ایج ہوم کی روایت کہاں سے آگئٰ۔۔۔۔۔۔۔
خدارا! پہچانیۓ اپنے اپ کو یہ سب ہماری تہزیب نہیں ہماری
معاشرتی قدریں ایک دوسرے کا احترام سکھاتی ہیں۔ آپس میں پیار و محبت سے رہنے کا
درس دیتی ہیں۔
ھماری پہچان ھماری تہزیب ہے اور اسی سے ہماری قدر یے۔ ہم
اپنی تہزیب نہیں پہچان کھو رہے ہیں اور سچ ہے کہ قدر اسی کی ہوتی ہے جس کی پہچان
کوئی پہچان ہو۔
No comments:
Post a Comment