Neut`s Trends

Dream Big and Dare to Fail. -NORMAN VAUGHAN-

Friday, 24 April 2015

" حاضرحاضر لہو ہمارا ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



جس ملک کی فضاؤں میں خشبو حب الوطنی مہک رہی ہو اس پر کسی کی آنکھ اٹھانے کی ہمت بھی کیونکر ہوسکتی ہے۔ جس ملک کے نوجوان بے خوف و خطر نہ صرف سرحدوں پر کھڑے ملکی حفاظت کر رہے ہوں بلکہ جب جب ملک و قوم کو اندرونی خطرات لاحق ہوں تو یہ جوان دوڑے  دوڑے آکر سب کچھ سمبھالتے ہوں وہاں بھلا کوی کچھ کر پاۓ گا۔
پاکستان ! جیسا پاکیزہ میرے ملک کا نام ویسی میری افواج۔ حدود چاہے زمینی ہو، فضائ ہو یا طویل پانیوں کی۔۔۔۔ افواجِ پاکستان اپنا سب کچھ اس ایک نام کے حوالے کر کے ہمارے لۓ، ہمارے ملک کیلۓ اکھٹا کرتے ہیں۔
اے جوان تو نے کس طرح قرض چکایا
کہ جو واجب بھی نہ تھا تجھ پر
تاریخ  کچھ بھی ،1965 1971یا 1999 افواجِ پاکستان کا ایک ہی نعرہ تھا اے پاکستان! حاضر حاضر لہو ھمارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ریاست کبھی ناکام ہو ہی نہیں سکتی ، جس کی بنیادوں میں شامل ہو میجر طفیل سے لیکر جان شیر خان جیسے شہیدوں کا۔ مٹ گۓ وہ جو مٹانے چلے تھے پاکستان کو۔ وطن کے ان سپوتوں نے اپنے وطن کی مٹی کا صحیح معنوں میں قرض ادا کیا۔
ماضی ہو یا حال، مشن راہِ نجات، راہِ راست یا ہو ضربِ عضب وطن کے یہ پروانے اپنا سب کچھ لٹاتے آۓ ہیں اور تا دم آخر اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
تو پھر  ہے کسی میں ہمت چھونے کی میرے سبز حلالی پرچم کو۔۔۔۔ ہر دشمن جلا کر خاک میں ملا دیں گے۔    
پاک فوج کی عظمت کو سلام !

Sunday, 5 April 2015

ناقا بل فراموش واقعہ

 ناقا بل فراموش واقعہ


رات کے شاید تین بجے تھے جب میں اپنے دوست کی شادی سے واپس لوٹ رہاتھاـرات کی نزاکت کا اندازہ نہ ہو نے کے باعث  میں سڑک پر ایک مجنوں کی طرح چلا  جا رہا تھاکہ اچانک مجھے کسی شخص کےگڑگڑانے کی آواز آئ جیسے کہ کوئ  کسی سے رحم طلب کررہاہوـ رات کی سیاحی میں کتوں کے بھونکنے  کی آواز کے ساتھ  اُس  شخص کی آواز میں جو تھرتھراہٹ موجود  تھی وہ شاید  کسی بجلی کے کڑکنےکی آواز سےکم نہ تھی ـ میں ڈرتےسہمتےہؤےاس آواز کی طرف   لپکااور اس گلی میں جاپہنچاجہاں سے یہ آوازیں موصول ہورہی تھی ۔
اُس گلی  میں پہنچتے ہی میرے اُوپر سکتہ طاری ہوگیا میں اپنےجسم کےاعضاء کوحرکت کرانےکی کوشش کر رہاتھاپروہ میرےدماغ کا ساتھ  دینے کے لئے تیارنہ تھاـ  کیونکہ میرے  سامنے  منظرہی إتنا خوفناک تھامیرے سامنے ایک عجییب و غریب بلا ایک آدمی کو کھا رہی تھی،اُس آدمی کوکھانے کےبعدوہ  بلامیری طرف بڑھی لیکن میں نےاُس سےگڑ گڑاتے ہوے اپنی جان بخشنےکی درخواست کی ـ إسکےبدلےمیں اُس نےمجھ سےإیک وعدہ لیاکہ تم یہ بات کسی  کونہیں بتائوں  گےـمیں نے آناََ فاناََ  اپناسرہاں میں ہلا  دیا،وہ  بلاوہاں سے غائب ہوگئ ـ  میں اب تک یقین نہیں  کررہا  تھا کہ کیایہ سب کچھ حقیقت  ہے ـمیرےگھر کےراستے میں ایک قبرستان پڑتا تھامیں وہاں  سےگزررہا تھا کہ میں نےدیکھاکہ ایک سفیدلباس پوش عورت  کسی کی  قبر کے سرہانے  بیٹھی  رو رہی ہے ـ
اُُُُُُسکی پُشت میری جانب تھی لہذا میرے لئے إسکو دیکھنا مشکل تھا میں قریب گیا اور اس کو مخاطب کیا کہ إتنی  رات میں  آپ کیا کر رہی ہیں ـ وہ عورت دکھنے میں نہایت خوبصورت تھی‘  اُس نے بتایا کہ  یہ میرے خاوند کی قبر ہے وہ مجھے إس دنیا میں چھوڑ کر چلیں گئے ہیں، اب میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے ـ مجھے  اُسعورت پر ترس آیا  اور میں اُسے اپنے گھر لے آیا،میں نے اپنی ماں سے اِس سے شادی کا اظہار کیا اور کچھ دن بعد میری  إس سے شادی ہوگئی ـ شادی کے بعد میں اپنی بیوی کے ہمراہ  راولپنڈی آگیا، دیکھتے ہی دیکھتے  میرے تین بچے ہوگئے جن میں سے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا ـ
کئی سال گزرنے کے بعد ایک شام  جب میں کم سے لوٹاتو ہمیشہ کی طرح  ہم باغ میں چائے پی رہے تھے ، بچےگھاس میں کھیل رہے تھے ،وہ نہایت خو بصورت شام تھی اس دن میرا رویّہ  بہت مسرّت بھرا تھاکہ میں نے باتوں باتوں میں اپنے بچوں کو اُس بلا کی کہانی سنانا شروع کردی ـ لیکن  جیسے  ہی میں نے یہ کہانی سنانا شروع کی تو اچانک ہی میرے بیوی اور بچوں کی  شکلیں اُس بلا  جیسی شکل میں تبدیل ہو نے لگی،میری بیوی نے روتے ہوے مُجھ سے کہا کہ آپ نےیہ سب کچھ کیوں بتایا، یہ سب دیکھ کر میں إتنا گبھرایا کہ فوراََ  سب کچھ  چھوڑ چھاڑ کر اپنی ماں اور رشتداروں کے پاس بھاگ آیاـ إیک ہفتے تک میں تیز بخار میں تپتا رہا، میری ماں نے کسی صوفی بزرگ سے میرا علاج کروایا تو میری صحت بحال ہوئی  اب اِس واقعہ کو کئی سال گزر چکے ہیں لیکن آج تک یہ میری زندگی کا  نا قا بل   فراموش واقعہ ہے ـ

Thursday, 2 April 2015



کہاں گٰئیں وہ معاشرتی قدریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔


پاکستان اور اس کے باسیوں کی تہزیب جنوبی ایشیا  اور پوری دنیا میں ھمیشہ ستائشی نظروں سے دیکھی گئ ہے۔دوردراز سے میلوں کی سافت طے کر کے لوگ یہاں کی تہزیب جاننے یہاں کے لوگوں کے درمیاں رہ کر ان کی مشاشرتی اخلاقیات،ان کا تہزیب و تمدن جاننے کی جستجو میلوں کی مسافت طے کر کے یہاں آتے تھے۔ مگر آج ۔۔۔۔۔ کیا ہوا ہے میرے لوگوں کو ۔۔۔۔ کیا ہوا ہے ان کی معاشرتی اخلاقیات کو۔۔۔۔
کیا ہوا ہے اس ملک کو جہاں مردانگی کے نام پہ صرف درندگی باقی رہ گئ ہے۔ جہاں شوہر کو مجازی خدا کہا جاتا تھا، آج وہی مجازی خدا اپنی شریکِ حیات کو جیتے جی ماردیتے ہیں، کبھی تیزاب سے نہلا دیتے ہیں تو کبھی مٹی کا تیل ڈال کر آگ لگا دیتے ہیں۔
کیا یہی ہے مردانگی! جہاں راہ چلتی خواتین ان درندوں کی حوس کا نشانہ بنتی ہیں۔جہاں کوئ خاتون ضرورت کہ تحت بھی ھر سے سکون سے نہیں نکل سکتی کیونکہ نہ جا نے کتنی بے شرم و بے حیاء نگاہیں ان کا تعاقب کرتی رہیں گی کیونکہ نہ جانے کب کہاں سے کوئ شیطان کا پجاری آکر اس سی مَس ہوگا اور اس کی پاکیزگی کو گندہ کرنے کی کوشش کرے گا۔۔۔۔۔
کیا ہوا ہے میرے ملک کی ان با حیاء اور اعلیٰ اخلاق خواتین کو کہ جن میں محترمہ فاطمہ جناح اور محترمہ بینظیر بھٹو جیسی خواتین کا شمار ہوتا ہو آج اسی ملک کی خواتین کا ایک حصہ مخصوص انداز میں جگہ جگہ کھڑا ہوجاتا ہے۔خریدار آتے ہیں اور انہیں لے جاتے ہیں ایسے میں شرفاء کا کیا قصور جب کئ خریدار ان کو بھی انہی خواتین کا حصہ سمجھ لیں تو۔۔۔۔۔۔۔
کیا میرے ملک میں عورتوں کا عزت سے جینا اتنا مشکل ہے کہ انہوں نے جینے کیلۓ عزت کو فروخت کرنا مناسب زیادہ سمجھا ۔۔۔۔۔۔۔
اولڈ ایج ہوم ۔۔۔۔! کبھی جا کر تو دیکھۓ دل دہل جاۓ رونگٹے کھٹے ہوجائٰیں گے اگر ان بزرگوںنکی جگہ خود کو رکھ کر سوچیں تو۔۔۔۔
جنہوں نے ساری زندگی جن بچوں کو اپنے خون سے سینچا آج وہی بچے ان کو ان ہی کے گھر سے نکال دیتے ہیں ۔۔۔ تو کچھ مہربانی کر کے اولڈ ایج ہوم بھیج دیتے ہیں۔ جہاں بزرگ گھروں کی رونق، بچوں کے دوست اور چار دیواری کو گھر بناتے تھے آج وہاں یہ اولد ایج ہوم کی روایت کہاں سے آگئٰ۔۔۔۔۔۔۔
خدارا! پہچانیۓ اپنے اپ کو یہ سب ہماری تہزیب نہیں ہماری معاشرتی قدریں ایک دوسرے کا احترام سکھاتی ہیں۔ آپس میں پیار و محبت سے رہنے کا درس دیتی ہیں۔
ھماری پہچان ھماری تہزیب ہے اور اسی سے ہماری قدر یے۔ ہم اپنی تہزیب نہیں پہچان کھو رہے ہیں اور سچ ہے کہ قدر اسی کی ہوتی ہے جس کی پہچان کوئی پہچان ہو۔

Wednesday, 1 April 2015

CAUSES OF WOMEN ILLITERACY & ITS EFFECTS IN PAKISTAN


These girls could have also become Malala Yousafzai or Sharmeen Obaid , but they didn’t.They were married off in their early teens, and before they could escape childhood, some gave birth to their own children.Child marriage is wide spread in Pakistan. Girls as young as 13 are married off by their parents or guardians. Poverty, illiteracy, religious beliefs, and cultural norms and pressures are some of the reasons behind this practice. For the young mothers, early motherhood is often accompanied with high fertility, and poor maternal and children health.Over the past five decades, significant improvement has taken place in battling child marriages.A relatively much smaller proportion of young girls is married off today than was 50 years ago. Still, much more work is needed to curb such practices to ensure Pakistan’s future mothers and their children can lead healthy and prosperous lives.Teenage pregnancies are not just a challenge for developing countries. Even the US is struggling with the same challenge, with additional complexities. Greater awareness about contraceptives and their effective use and cultural changes are the reason behind the decline in these numbers.
    
In Pakistan, though, teenage pregnancies result in additional complexities. In a recent research,  and others explore the impact of girl child marriages on fertility in Pakistan.Using data from the Pakistan Demographic and Health Survey for 2006-07, the research found that over 50 per cent of the ever-married women in Pakistan between the ages of 20 and 24 were married before they turned 18. Most international conventions consider individuals under 18 as children.I believe that the adverse impacts of girl child marriages include high fertility rates (three or more childbirths), frequent childbirth with fewer than 24 months between births, unwanted pregnancies, and pregnancy termination.

Pakistan has made tremendous progress in increasing the average age at marriage for girls, which increased from 13 years to 23 in 2006-07. But despite the good work done, one in two young girls is still married off before she turns 18.This has to change.The poor health of the teenage mother and her child, and higher risks for disease and death for both should convince the governments to increase the legal age for marriage.The main determinants of childhood marriage are the usual suspects. Most child brides have no formal education and live in Pakistan’s rural areas. Of those, who were between 20-24 years old, 75 per cent women reported at least one childbirth. Almost 32 percent women in the same cohort gave birth to a child in the first year after their marriage. Another 20 percent of 20-24 years old had at least once terminated a pregnancy.The mother and child’s health has to become a priority in Pakistan.Pakistan needs to invest in its people to build a prosperous country. It can start by investing in the health of mothers and children to preserve the future generation of Pakistanis.

Monday, 2 March 2015

میری سادگی میرا زیور

سادگی میں چھپی وہ معصومیت

لوٹا دو نہ مجھ کو وہ دور پرانا 


پاکستان کے چار صوبے ہیں اور سب کی اپنی الگ پہچان ہے ہر صوبے کے اوڑھنے بچھونے کے منفرد انداز ہیں - پاکستان ملک بھر میں اپنی ثقافت کی وجہ سے مشہور ہے ،لیکن اسکی اپنی ثقافت کہیں دور کھوتی جا رہی ہے - مشرقی ممالک کے پہناوے کو لوگوں  نے اپنے اوپر مسلط کر لیا ہے اگر کوئی لڑکی پردے میں سادہ لباس نظر آے تو ہم کہتے ہیں اسے دیکھو اب تک پرانے دور میں جی رہی ہے نیا انداز سے واقف نہیں ہے بہن جی کہیں کی - نہیں بلکہ ایسا نہیں ہے ہمارا خیال ہوتا ہے کے وہ بھی ہماری طرح بیہودہ قسم کے لباس زیب تن کرے جیسے ہم دنیا کو دیکھ کر بدل رہے ہیں ویسے وہ بھی بدلے ، مگر اسلام تو ہمیں بتاتا ہے کہ ایک عورت کی خوبصورتی پردہ  اور سادہ لباس ہے اسکی سادگی ہی اسکا زیور ہے تو پھر ہم کیوں اتنے مہنگے لباس ، زیورات اور دوسری فضول چیزوں میں پیسہ اور وقت برباد کرتے ہیں - پاکستان کی مغربی ثقافت تو دنیا بھر میں مانی جاتی ہے اسکے نفس کام سادہ آنکھوں کو چھونے والی سادگی ہمیں کیوں نہیں نظر اتی شاید ہم مشرقی ممالک کی رنگینوں میں اتنا کھو چکے ہیں کہ ہمیں اپنے ممالک کا حسن نظر ہی  نہیں اتا - اے کاش کے پھر سے وو دور آجاے جو پہلے زمانے کے لڑکی لڑکے میں ہوا کرتا تھا وہ بھولپن ، معصومیت آنکھوں میں چھپا وہ مفرد حسن - معا شرے میں ابھرتی یہ بیہودگی مجھے نہیں دیکھنی آجاؤ لوٹ کر وہ دور پرانا -  

Sunday, 1 March 2015

NEW TREND OF REMARRIAGE

Source link (Google.com.pk)

Marriage is a relation which allows two partners  to live together .It ties both in a strong bond relation but this relation is becoming blur as the passage of time.In this modernism age  when social networking  has become a part of daily life, the worth of relations have lost which is heavily effecting our daily life .especially teenage imagines a marriage of fantasy,.They supposed their lives as drama episode but the fantasy of marriage looks a lot of different from reality.hen every thing in theirs life does not turn out exactly as they dreamed.They start to blame each other and tries to escape from boredom.The research shows that first marriage have a failure rate of 40% while second marriage ends in divorce 60%.the trend of second marriage is provoking fastly.Pakistans political leader Imran khan has done second married with jounalist Reham Khan while pakistani film actor Sana's husband has also done second marriage with pakistani model Manahil.Media is also promoting this trend by telecasting the drama like "Dosri Biwi" from HUM channel  2014,drama "Firaq" from HUM Channel 2013 and dram "Shaq" from ARY digital 2013, and famous Drama "Humsafar" from Hum TV.In Short,This  age have smashed the examples of true lovers "Laila mujno" and "Sheeren farhaad"because this is a materialistic age.

Thursday, 26 February 2015

ایک ادھورا خواب۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔

زندگی۔ ۔ ۔ ۔  ۔  ۔ اک ادحورا خواب،حر شخص اپنی زندگی میں ھزاروں خواب دیکھتا ھے۔مگر کونسا پایۓ تکمیل کو پحنچے گا اس سے بےخبر ھم خوابوں کے اس دلدل میں دھنستے چلے جاتے ھیں۔

بقول شاعر

ھزاروں خواحشیں ایسی کے ھر خواحش پۃ دم نکلے

کبھی کبھی یھی خواب انسان سے کچھ ایسا کروادیتے ھیں کے وھ اس کو دونوں جحان میں سرخرو کر دیتے حیں اور کبھی یھی خواب عزت سے جینے کا سامان بھی چھین لیتے ھیں۔ ھر انسان کا اک عام سا خواب ھوتا ھے۔ اک گھر ھو سکون کے دو پل ھوں۔جھاں اس کا سارا جھان بستا ھو۔جھاں اس کے اپنے اس کے پاس ھوں اس کے ساتھ ھوں،باحفاظت ھوں۔

مگر آج کے اس افراتفری کے عالم میں یہ صرف ایک ادھورا اور ٹوٹا خواب ھے جس کی کرچیاں ھر اک انسان کو چھلنی کیے دے رھی ھیں۔چاھے جگہ کویُ بھی ھو عالم انسانیت رو رھا ھے۔ھمدردی سے ناآشنا اک دوسرے کے درد کے تماشبین ھیں ھم۔۔۔۔۔۔۔۔نا جانے کس بات کے پیچھے بھاگ رھے ھیں۔۔۔۔یہ کیسا سفر ھے ھمیں کھاں لے جاۓگا ۔۔۔۔۔۔بھوکے بچے رو رھے ھیں۔۔۔ھم بھاگ رھے ھاں۔۔۔۔لوگ مر رھے ھیں ۔۔۔۔۔ھم بھاگ رھے ھیں۔۔۔۔ھمارے جیسے خواب ٹوٹ کے چکناچور ھو رھے ھیں۔۔۔۔ھم بھاگ رھے ھیں۔۔۔۔۔۔

آخر کیوں۔۔۔؟کب تک بھاگتے رھیں گے۔۔۔۔۔؟آخر کب ھم سمجھیں گے کے جب خواب سانجھے ھوں توالگ الگ نھیں بھاگتے ورنہ اپنوں کے ھی پیروں تلے رند جایں گے۔ضرورت ھے ایکے کی اتحاد کی ۔۔۔۔۔ضرورت ھے ھمدرد بننے کی نہ کے تماشبین بننے کی۔آؤ کے پھر ھاتھ سے ھاتھ جوڑ کے ایک ایسی کڑی بناٰیں کہ نا توڑ سکے کوی اس کو۔۔۔۔

آؤ پھر سے ایک ھوجاٰیں۔۔۔۔۔۔۔۔کے ادھورا خواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تکمیل کو باقی ھے۔۔۔۔۔۔ایک ادھورا خواب تکمیل کو باقی ھے۔۔۔۔۔