Neut`s Trends

Dream Big and Dare to Fail. -NORMAN VAUGHAN-

Friday, 1 May 2015

                              BEAT THE BLUES

Life always not as sparkling and interesting as it seems,it has tons of ups and downs,sorrows and bitter reality with mesmerizing and cherish moments.One should make fully effort at  his down times to beat the blues.It is the story of a widow women were spending her life solitary with both end meets.
In dec 2013,she married with a handsome,sincere,loving and caring man,he was commanding officer in PAKISTAN RANGERS,one night they were sleeping,sudden they awaken with high echoing ringtone of cellphone throbbed their heart.It was call from head office to reach as fast as possible.It was 3:00 a.m,he took his bag,wore bullet proof jacket and out from home to head office for operation 87 swiftly.
Before leaving home he hugged his beautiful wife n said:

"My darling Sara,I am going for the safety of thousands of people sleeping now,ALLAH would save me don,t worry,I would back soon,take care alot."

When raza (sara's husband) left,Sara were restless and constantly praying for her husband,At fajar she offered salah and salah-tul-hajaat as well for safety.
It was not new for her being a wife of a commander because she knew that he have to go at any cost but that particular day she was excessive distracted.
At 10:00 a.m morning,door bell rang and an officer was standing outside with rangers van to say that her husband shot dead during operation.
After listening that she fallen down on floor and lost her mind because she loved him alot.
4 months later,when her iddat over she was hopeless and declined to live more but she connected with eternity and gradually raised hope for being alive only because of her husband.
Slowly she turned towards life but failed to BEAT THE BLUES.

Tuesday, 28 April 2015

NA-246 RESULT QUITE PTI

NA-246 RESULT QUITE PTI
Source link(Google.com.pk)




After the resignation of MQM  ,MNA Nabeel Ahmed Gabool. The polling held at 23rd April ,Thursday whose result quite the PTI leader  Imran Khan.There were 3 candidates nominated for this seat which includes Kanwar Naweed Jamil of MQM,Imran Ismael (PTI) and Rashid Naseem of JUI. The wondering result of 213 polling stations suceed Kanwar Naweed Jamil of MQM by 95644 votes while Imran Ismael got 2nd position by taking 24821 votes and Rashid Nasim of JUI got 9056 votes.
After the announcement of MQM  victory,the PTI member Imran ismael said that the party  fought well and if MQM candidates Kanwar Naweed Jamil wins,he would congratulate him.Although the members of MQM burnt the flag of PTI to express their feelings.
MQM supporters have already gathered at Jinnah  ground to celebrate the anticipated win of MQM'S Kanwar Naweed Jameel of the NA-246 constituency,after being summoned  by party chief Altaf Hussain.

Sunday, 26 April 2015

میری بہن

ماں ، بہن ، دوست کتنے کردار تم میں تھے چھپے           


زندگی میں بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ہم چاہ کر بھی روک نہیں سکتے جنکے ساتھ ہم بچپن سے رہے ہم چا ہتے ہیں کے وو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے جیسا کہ ہمارے ماں باپ بہن بھاہی  رشتدار دوست احباب یہ سب ہمارے ساتھ رہیں کبھی ہم سے الگ نہ ہوں لیکن دنیا کا  نظام تو اس ہی طرح چلتا رہے گا کوئی آے گا کوئی جائے گا -
     باجی بڑی بہن میری ماں جیسی ہاں سب ٹھیک چل رہا تھا ہم سب خوش تھے وہ  پاکستان آرہی تھی لیکن پاکستان   آنے سے دو دن پہلے اسے بخار آیا ایسا بخار  کے اس کے لئے جان لیوا بن گیا فون کی وو گھنٹی آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے یہ خبر ہم سب کے لئے کسی قیامت سے کم نہ تھی کسی کو یقین نہیں اتا کہ وہ   اسے ہم سب کو چھوڑ کر چلی جاےگی باجی کی   موت کی خبر نے ہمارے گھر میں ایک طوفان بھرپا کر دیا کسے پتا تھا کہ  کوئی اسکی شکل دوبارہنہیں  دیکھ سکے گا وو اس جہاں فانی سے کوچ کر گی ہاں وو اس دنیا سے چلی گی سب کو روتا چھوڑ کر کبھی نہ واپس آنے کے لئے -
  میری بہن ، ماں،  دوستواور  کتنے ہی کردار تم نے ہماری زندگی میں نبھانے کبھی زندگی میں کسی چیز کی کمی نی ہونے دی چاہے گھر میں کچھ ہو یا باہر پہلا خیال باجی کا اتا اسے کہوں گی سن ٹھیک ہو جائے گا - اعتماد ، بھروسہ اور محبت کی اپنی مثال آپ تھی کہاں سے لاؤں اب تم جیسی بہن کہاں ڈھونڈوں وہ محبت کس سے کروں میں باتیں بہت کچھ میں چاہتی  تھی کرنا  تمھارے لئے لکن وہ ہو نہ سکا دنیا کی ساری خوشیاں دینا چاہتی  تھی بچپن سےتمھے  ساتھ رکھنے کی خوائش تھی یہ سارے خواب تمھارے ساتھ چلے گئے ہیں تم سے کیسی محبت تھی مجھے نہیں پتہ  مگر میرا دل چاہتا تھا کے تم ہمیشہ میرے ساتھ رہو لیکن الله کو یہ منظور نہیں تھا جب تم گی تو مجھے  ساری دنیا سے نفرت ہونے لگی ہاں  مگر وقت اور حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے آج بھی تم سے بےانتہا محبت ہے ایسا لگتا ہے چھین کر لےاؤں تمھے الله سے لیکن ایسا  نہیں ہو سکتا الله جو کرتا ہے بہتر  ہوتا ہےہم نادان اس خالق کی سوچ تک نہیں پہنچ سکتے-
مجھے تم سے بہت محبت ہوگی تھی نہ اور  الله کبھی یہ نہیں چاہتا کہ اسکےبندے  کسی اور  کو اس سے زیادہ چاہے-

میری ہر خوائش کو تم نے ہے سراہا 
  ایسی محبت میں ڈھونڈوں  کہاں سے 

Friday, 24 April 2015

" حاضرحاضر لہو ہمارا ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



جس ملک کی فضاؤں میں خشبو حب الوطنی مہک رہی ہو اس پر کسی کی آنکھ اٹھانے کی ہمت بھی کیونکر ہوسکتی ہے۔ جس ملک کے نوجوان بے خوف و خطر نہ صرف سرحدوں پر کھڑے ملکی حفاظت کر رہے ہوں بلکہ جب جب ملک و قوم کو اندرونی خطرات لاحق ہوں تو یہ جوان دوڑے  دوڑے آکر سب کچھ سمبھالتے ہوں وہاں بھلا کوی کچھ کر پاۓ گا۔
پاکستان ! جیسا پاکیزہ میرے ملک کا نام ویسی میری افواج۔ حدود چاہے زمینی ہو، فضائ ہو یا طویل پانیوں کی۔۔۔۔ افواجِ پاکستان اپنا سب کچھ اس ایک نام کے حوالے کر کے ہمارے لۓ، ہمارے ملک کیلۓ اکھٹا کرتے ہیں۔
اے جوان تو نے کس طرح قرض چکایا
کہ جو واجب بھی نہ تھا تجھ پر
تاریخ  کچھ بھی ،1965 1971یا 1999 افواجِ پاکستان کا ایک ہی نعرہ تھا اے پاکستان! حاضر حاضر لہو ھمارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ریاست کبھی ناکام ہو ہی نہیں سکتی ، جس کی بنیادوں میں شامل ہو میجر طفیل سے لیکر جان شیر خان جیسے شہیدوں کا۔ مٹ گۓ وہ جو مٹانے چلے تھے پاکستان کو۔ وطن کے ان سپوتوں نے اپنے وطن کی مٹی کا صحیح معنوں میں قرض ادا کیا۔
ماضی ہو یا حال، مشن راہِ نجات، راہِ راست یا ہو ضربِ عضب وطن کے یہ پروانے اپنا سب کچھ لٹاتے آۓ ہیں اور تا دم آخر اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
تو پھر  ہے کسی میں ہمت چھونے کی میرے سبز حلالی پرچم کو۔۔۔۔ ہر دشمن جلا کر خاک میں ملا دیں گے۔    
پاک فوج کی عظمت کو سلام !

Sunday, 5 April 2015

ناقا بل فراموش واقعہ

 ناقا بل فراموش واقعہ


رات کے شاید تین بجے تھے جب میں اپنے دوست کی شادی سے واپس لوٹ رہاتھاـرات کی نزاکت کا اندازہ نہ ہو نے کے باعث  میں سڑک پر ایک مجنوں کی طرح چلا  جا رہا تھاکہ اچانک مجھے کسی شخص کےگڑگڑانے کی آواز آئ جیسے کہ کوئ  کسی سے رحم طلب کررہاہوـ رات کی سیاحی میں کتوں کے بھونکنے  کی آواز کے ساتھ  اُس  شخص کی آواز میں جو تھرتھراہٹ موجود  تھی وہ شاید  کسی بجلی کے کڑکنےکی آواز سےکم نہ تھی ـ میں ڈرتےسہمتےہؤےاس آواز کی طرف   لپکااور اس گلی میں جاپہنچاجہاں سے یہ آوازیں موصول ہورہی تھی ۔
اُس گلی  میں پہنچتے ہی میرے اُوپر سکتہ طاری ہوگیا میں اپنےجسم کےاعضاء کوحرکت کرانےکی کوشش کر رہاتھاپروہ میرےدماغ کا ساتھ  دینے کے لئے تیارنہ تھاـ  کیونکہ میرے  سامنے  منظرہی إتنا خوفناک تھامیرے سامنے ایک عجییب و غریب بلا ایک آدمی کو کھا رہی تھی،اُس آدمی کوکھانے کےبعدوہ  بلامیری طرف بڑھی لیکن میں نےاُس سےگڑ گڑاتے ہوے اپنی جان بخشنےکی درخواست کی ـ إسکےبدلےمیں اُس نےمجھ سےإیک وعدہ لیاکہ تم یہ بات کسی  کونہیں بتائوں  گےـمیں نے آناََ فاناََ  اپناسرہاں میں ہلا  دیا،وہ  بلاوہاں سے غائب ہوگئ ـ  میں اب تک یقین نہیں  کررہا  تھا کہ کیایہ سب کچھ حقیقت  ہے ـمیرےگھر کےراستے میں ایک قبرستان پڑتا تھامیں وہاں  سےگزررہا تھا کہ میں نےدیکھاکہ ایک سفیدلباس پوش عورت  کسی کی  قبر کے سرہانے  بیٹھی  رو رہی ہے ـ
اُُُُُُسکی پُشت میری جانب تھی لہذا میرے لئے إسکو دیکھنا مشکل تھا میں قریب گیا اور اس کو مخاطب کیا کہ إتنی  رات میں  آپ کیا کر رہی ہیں ـ وہ عورت دکھنے میں نہایت خوبصورت تھی‘  اُس نے بتایا کہ  یہ میرے خاوند کی قبر ہے وہ مجھے إس دنیا میں چھوڑ کر چلیں گئے ہیں، اب میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے ـ مجھے  اُسعورت پر ترس آیا  اور میں اُسے اپنے گھر لے آیا،میں نے اپنی ماں سے اِس سے شادی کا اظہار کیا اور کچھ دن بعد میری  إس سے شادی ہوگئی ـ شادی کے بعد میں اپنی بیوی کے ہمراہ  راولپنڈی آگیا، دیکھتے ہی دیکھتے  میرے تین بچے ہوگئے جن میں سے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا ـ
کئی سال گزرنے کے بعد ایک شام  جب میں کم سے لوٹاتو ہمیشہ کی طرح  ہم باغ میں چائے پی رہے تھے ، بچےگھاس میں کھیل رہے تھے ،وہ نہایت خو بصورت شام تھی اس دن میرا رویّہ  بہت مسرّت بھرا تھاکہ میں نے باتوں باتوں میں اپنے بچوں کو اُس بلا کی کہانی سنانا شروع کردی ـ لیکن  جیسے  ہی میں نے یہ کہانی سنانا شروع کی تو اچانک ہی میرے بیوی اور بچوں کی  شکلیں اُس بلا  جیسی شکل میں تبدیل ہو نے لگی،میری بیوی نے روتے ہوے مُجھ سے کہا کہ آپ نےیہ سب کچھ کیوں بتایا، یہ سب دیکھ کر میں إتنا گبھرایا کہ فوراََ  سب کچھ  چھوڑ چھاڑ کر اپنی ماں اور رشتداروں کے پاس بھاگ آیاـ إیک ہفتے تک میں تیز بخار میں تپتا رہا، میری ماں نے کسی صوفی بزرگ سے میرا علاج کروایا تو میری صحت بحال ہوئی  اب اِس واقعہ کو کئی سال گزر چکے ہیں لیکن آج تک یہ میری زندگی کا  نا قا بل   فراموش واقعہ ہے ـ

Thursday, 2 April 2015



کہاں گٰئیں وہ معاشرتی قدریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔


پاکستان اور اس کے باسیوں کی تہزیب جنوبی ایشیا  اور پوری دنیا میں ھمیشہ ستائشی نظروں سے دیکھی گئ ہے۔دوردراز سے میلوں کی سافت طے کر کے لوگ یہاں کی تہزیب جاننے یہاں کے لوگوں کے درمیاں رہ کر ان کی مشاشرتی اخلاقیات،ان کا تہزیب و تمدن جاننے کی جستجو میلوں کی مسافت طے کر کے یہاں آتے تھے۔ مگر آج ۔۔۔۔۔ کیا ہوا ہے میرے لوگوں کو ۔۔۔۔ کیا ہوا ہے ان کی معاشرتی اخلاقیات کو۔۔۔۔
کیا ہوا ہے اس ملک کو جہاں مردانگی کے نام پہ صرف درندگی باقی رہ گئ ہے۔ جہاں شوہر کو مجازی خدا کہا جاتا تھا، آج وہی مجازی خدا اپنی شریکِ حیات کو جیتے جی ماردیتے ہیں، کبھی تیزاب سے نہلا دیتے ہیں تو کبھی مٹی کا تیل ڈال کر آگ لگا دیتے ہیں۔
کیا یہی ہے مردانگی! جہاں راہ چلتی خواتین ان درندوں کی حوس کا نشانہ بنتی ہیں۔جہاں کوئ خاتون ضرورت کہ تحت بھی ھر سے سکون سے نہیں نکل سکتی کیونکہ نہ جا نے کتنی بے شرم و بے حیاء نگاہیں ان کا تعاقب کرتی رہیں گی کیونکہ نہ جانے کب کہاں سے کوئ شیطان کا پجاری آکر اس سی مَس ہوگا اور اس کی پاکیزگی کو گندہ کرنے کی کوشش کرے گا۔۔۔۔۔
کیا ہوا ہے میرے ملک کی ان با حیاء اور اعلیٰ اخلاق خواتین کو کہ جن میں محترمہ فاطمہ جناح اور محترمہ بینظیر بھٹو جیسی خواتین کا شمار ہوتا ہو آج اسی ملک کی خواتین کا ایک حصہ مخصوص انداز میں جگہ جگہ کھڑا ہوجاتا ہے۔خریدار آتے ہیں اور انہیں لے جاتے ہیں ایسے میں شرفاء کا کیا قصور جب کئ خریدار ان کو بھی انہی خواتین کا حصہ سمجھ لیں تو۔۔۔۔۔۔۔
کیا میرے ملک میں عورتوں کا عزت سے جینا اتنا مشکل ہے کہ انہوں نے جینے کیلۓ عزت کو فروخت کرنا مناسب زیادہ سمجھا ۔۔۔۔۔۔۔
اولڈ ایج ہوم ۔۔۔۔! کبھی جا کر تو دیکھۓ دل دہل جاۓ رونگٹے کھٹے ہوجائٰیں گے اگر ان بزرگوںنکی جگہ خود کو رکھ کر سوچیں تو۔۔۔۔
جنہوں نے ساری زندگی جن بچوں کو اپنے خون سے سینچا آج وہی بچے ان کو ان ہی کے گھر سے نکال دیتے ہیں ۔۔۔ تو کچھ مہربانی کر کے اولڈ ایج ہوم بھیج دیتے ہیں۔ جہاں بزرگ گھروں کی رونق، بچوں کے دوست اور چار دیواری کو گھر بناتے تھے آج وہاں یہ اولد ایج ہوم کی روایت کہاں سے آگئٰ۔۔۔۔۔۔۔
خدارا! پہچانیۓ اپنے اپ کو یہ سب ہماری تہزیب نہیں ہماری معاشرتی قدریں ایک دوسرے کا احترام سکھاتی ہیں۔ آپس میں پیار و محبت سے رہنے کا درس دیتی ہیں۔
ھماری پہچان ھماری تہزیب ہے اور اسی سے ہماری قدر یے۔ ہم اپنی تہزیب نہیں پہچان کھو رہے ہیں اور سچ ہے کہ قدر اسی کی ہوتی ہے جس کی پہچان کوئی پہچان ہو۔

Wednesday, 1 April 2015

CAUSES OF WOMEN ILLITERACY & ITS EFFECTS IN PAKISTAN


These girls could have also become Malala Yousafzai or Sharmeen Obaid , but they didn’t.They were married off in their early teens, and before they could escape childhood, some gave birth to their own children.Child marriage is wide spread in Pakistan. Girls as young as 13 are married off by their parents or guardians. Poverty, illiteracy, religious beliefs, and cultural norms and pressures are some of the reasons behind this practice. For the young mothers, early motherhood is often accompanied with high fertility, and poor maternal and children health.Over the past five decades, significant improvement has taken place in battling child marriages.A relatively much smaller proportion of young girls is married off today than was 50 years ago. Still, much more work is needed to curb such practices to ensure Pakistan’s future mothers and their children can lead healthy and prosperous lives.Teenage pregnancies are not just a challenge for developing countries. Even the US is struggling with the same challenge, with additional complexities. Greater awareness about contraceptives and their effective use and cultural changes are the reason behind the decline in these numbers.
    
In Pakistan, though, teenage pregnancies result in additional complexities. In a recent research,  and others explore the impact of girl child marriages on fertility in Pakistan.Using data from the Pakistan Demographic and Health Survey for 2006-07, the research found that over 50 per cent of the ever-married women in Pakistan between the ages of 20 and 24 were married before they turned 18. Most international conventions consider individuals under 18 as children.I believe that the adverse impacts of girl child marriages include high fertility rates (three or more childbirths), frequent childbirth with fewer than 24 months between births, unwanted pregnancies, and pregnancy termination.

Pakistan has made tremendous progress in increasing the average age at marriage for girls, which increased from 13 years to 23 in 2006-07. But despite the good work done, one in two young girls is still married off before she turns 18.This has to change.The poor health of the teenage mother and her child, and higher risks for disease and death for both should convince the governments to increase the legal age for marriage.The main determinants of childhood marriage are the usual suspects. Most child brides have no formal education and live in Pakistan’s rural areas. Of those, who were between 20-24 years old, 75 per cent women reported at least one childbirth. Almost 32 percent women in the same cohort gave birth to a child in the first year after their marriage. Another 20 percent of 20-24 years old had at least once terminated a pregnancy.The mother and child’s health has to become a priority in Pakistan.Pakistan needs to invest in its people to build a prosperous country. It can start by investing in the health of mothers and children to preserve the future generation of Pakistanis.